ممبئی،5؍ اپریل(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) ممنوع تنظیم داعش کے توسط سے ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے کا منصوبہ بنانے کے الزامات کے تحت گرفتار اللہ رکھا ابو بکر منصوری نامی ملزم کی مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت پر آج بحث مکمل ہوئی جس کے بعد خصوصی این آئی اے جج نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے معاملے کی سماعت۱۸؍اپریل تک ملتوی کردی۔
ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے مقرر کردہ وکیل ہیتالی سیٹھ نے ڈسچارج عرضداشت پر بحث کرتے ہو ئے خصوصی جج ڈی ای کوٹھلیکر کو بتایا کہ اس معاملے میں حالانکہ این آئی اے اور اے ٹی ایس نے چارج شیٹ داخل کردی ہے لیکن چارج شیٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہیکہ ملزم کو صرف اور صرف شک اور دیگرملزم کے بیانات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا نیز قانون کی نظر میں ایسے ثبوتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
ایڈوکیٹ ہیتالی سیٹھ نے عدالت کومزید بتایا کہ استغاثہ نے دعوی کیا ہیکہ ملزم کے قبضہ سے ممنوع اشیاء اور ہتھیار ملے تھے اس کے باوجود استغاثہ نے ملزم کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا ہے البتہ اس پر بے بنیاد الزام عائدکیا کہ وہ پاکستان ٹریننگ کے لیئے جانا چاہتا تھا نیز وہ داعش کا ہم خیال ہے ۔ہیتالی سیٹھ نے عدالت کو مزید بتایا کہ پاکستان جانا کوئی جرم نہیں ہے اور نہ ہی کسی بھی تنظیم کا ہم خیال ہونا جرم ہے لہذا استغاثہ نے ملزم کو بغیر کسی پختہ اور قانونی طور پر قابل قبول ثبوتوں کے گرفتارکرکے اس کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہےاسی درمیان این آئی اے کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے ڈسچارج عرضداشت کی مخالفت کی اور عدالت کوبتایا کہ ملزم داعش کا ہم خیال ہے اور اس کے خلاف گواہوں کے بیانات بھی ہیں لہذا اسے مقدمہ سے ڈسچارج نہیں کرنا چاہئے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ صادر کرنے کے لیئے 18؍ اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔